اغوذ با اللھ من الشیطان الرجیم
بسم اللھ الر حمان الرحیم
جناب صدر، معززاساتذہ کرام ادر میرے عزیز ہم مکتبو!
اسلا م علیکم!
اج مجھے جس مضوع پر لب کشا ئ کیلۓ دیا گیا ہے وہ ہے"امن کیلۓ جنگ ضروری ہے۔" میں اس عنوان کی مخالفت میں اپنے دلائل پیش کرنے کی جسارت کررہا ھوں۔
جناب عالی!
تخلیق ادم سے لیکر اج تک کرہّ ارض پر دو قوّتیں مد مقابل ھیں۔۔۔ ایک ملکوتی اور دوسری طاغوتی۔۔ ایک قوّت تعمیری ھے تو دوسری تخریبی۔۔ اگر معا شرے میں زن، زر اور زمین کیلۓ جنگیں ھوتی رہتی ھیں تو اقوام عالم بھی ایک دوسرے پر چڑھ دوڑتیں ھیں۔ بڑی مچھلیاں چھوٹی مچھلیوں کا شکار کھیلتی ھیں۔ غاصب قوّتیں کمزور اقوام کو جینے نھیں دیتی۔۔ یہ جدال ہابیل و قابیل سے لیکر اج تک جاری ھیں۔۔
معزز سامعین!
لڑائ بری چیز ھے۔ لڑائ مکروہ فعل ھے۔ جنگوں میں خون بہتا ھے۔ جنگ بربادی ھے۔ مثال دیتا ھوں:
دوسری جنگ عظیم میں صرف روس کی تباھی دیکھیں۔ اسکے 20 لاکھ فوجی مارے گۓ، ڈھائ کروڑ افراد بے گھر ھوگۓ، 1700 شہروں اور 70 ہزار دیہاتوں میں تباہی ھوئ، اور 21 ملین جانور ہلاک ھوگۓ۔ جاپان میں ھیرو شیما اور ناگا ساکی راکھ کا ڈھیر بن گۓ۔
جناب صدر!
میں پوچھتا ھوں 21 ویں صدی کے درندوں سے پوچھتا ھوں!
عراق میں کتنا خون بہا؟ افغانستان کو پتھر کے زمانے میں کس نے دھکیلا؟ کشمیروں اور فلسطینیوں کا جرم کیا ھے؟ میں جواب دیتا ھوں!
ھے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات
معزز سامعین!
جنگ کیا ھے؟ تباھی اور بربادی۔ سکھ اور چین اور امن چھیننے کا دوسرا نام۔۔ جنگ ھوتی ھے تو تباھی اور بربادی ھوتی ھیں۔ بہت سے بچے یتیم ھو جاتے ہیں۔ بہت سے والدین اولاد کے مضبوط سہاروں سے محروم ھو جاتے ہیں۔۔ بہت سی بہنیں اپنے بھایئوں سے بچھڑ جاتی ہیں۔ جانی اور مالی نقصان ھوتا ھے۔
جناب صدر!
ممالک کے مابین کشیدگیاں طول پکڑتی ہیں جبکہ اسکے برعکس گفت و شنید امن کا نام ہے بات چیت ہی سے مسا ئل حل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ مخالف گروھوں کے مابین دوشمنیاں دوستیوں میں بدل سکتی ھیں۔ تو پھر کیوں اللھ کی مخلوق کو جنگوں کے شعلوں میں دھکیلی جارہی ہے؟ لال مسجد کے معصوم بچوں کو کیوں مارا گیا؟ قبائلی علاقوں کے لوگوں کو اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور کیے جارھے ھیں؟ کیا جنگ کسی مسلے کو حل کرسکتی ھے؟
نہیں۔ جناب والا! بالکل نہیں۔
معزز سامعین!
جاپان میں ہیروشیما اور ناگا ساکی کے ساتھ کیا ھوا؟ کیا وہاں ایٹم بم گرانے سے خوشی پھیل گئ؟ کیا لوگوں نے بم گرانے والوں کو داد دی؟ کیا وہاں کی ماؤں اور بہنوں نے تباہی پھیلانے والوں کے اس فعل پر دعایئں دیں؟
جناب والا!
یہ دنیا کی تاریخ میں وہ لمحہ تھا صدیوں تک بلکہ قیامت تک انسانیت کے نام پر ظلم و بربریت کا دھبّہ رہے گا۔
آیۓ عہد کریں کریں کہ ہم دنیا میں امن و آشتی کیلۓ گفت و شنید اور مذاکرات کی راہ اختیار کریں۔
پھول کی پتّی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر
مرد ناداں پر کلام نرم و نازک بے اثر
شکریہ
This speech was delivered by Muhammad Musa of class 7th FFMS Swabi and speaking against the given topic won the first PRIZE.
امن کیلۓ جنگ ضروری ہے(عنوان کی مخالفت میں)







